تحریر: حجت الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری
حوزہ نیوز ایجنسی I جمعرات/ 29 رمضان 1447 ہجری کو قم میں دو ممتاز شخصیات "علمی، ثقافتی اور سیاسی سرمائے" کی تشییع جنازہ کی تقریب منعقد ہوئی، جو حوزۂ علمیہ کے لیے نہایت بھاری اور دل شکن ثابت ہوئی۔ ایک طرف مجتہد آیت اللہ حاج شیخ محمد ابراہیم جناتی شاہرودی کا انتقال ہوا اور دوسری طرف تدبر، عقلانیت اور حوزہ و مراجع کے نزدیک محترم شخصیت، ڈاکٹر علی لاریجانی کی شہادت واقع ہوئی۔
آیت اللہ جناتی قم اور نجف کے حوزات کے تربیت یافتہ عظیم فقہاء میں شمار ہوتے تھے اور ہمیشہ ان دونوں مراکز کے بزرگوں کے احترام کا مرکز رہے۔ انہوں نے فقہِ حکومتی میں جدت، فقہِ پویا کی ترویج اور آزاد اندیشی کی نشستوں کے فروغ میں نمایاں علمی خدمات انجام دیں، جو اپنی مثال آپ ہیں۔ دوسری جانب علی لاریجانی اگرچہ ظاہری طور پر معمم نہ تھے، لیکن ایک طرف اپنے والد مرحوم آیت اللہ آقا میرزا ہاشم آملی لاریجانی اور دوسری طرف اپنے سسر، شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری سے نسبت اور ان دونوں عظیم شخصیات کے علمی فیض سے استفادہ، نیز اساتذہ، مراجع اور محققین سے مسلسل تعلق نے انہیں دوسروں سے ممتاز بنا دیا تھا۔
چونکہ آیت اللہ جناتی کا شہید مطہری سے علمی تعلق رہا اور نجف میں کئی بار ان کے درمیان علمی گفتگو ہوئی، نیز قم میں بھی آقا میرزا ہاشم کے ساتھ ان کی نشستیں رہتی تھیں، اس لیے مختلف مواقع پر آیت اللہ جناتی، شہید علی لاریجانی کی علمی و اخلاقی خصوصیات "خصوصاً ان کے اعتدال اور عقلانیت" کا اعتراف کرتے اور ان کی تعریف کرتے تھے۔
ان دونوں شخصیات سے ذاتی تعلق کے باعث، تشییع کے موقع پر میں نے ان کے مشترکہ اوصاف پر غور کیا، جن میں سے چند نکات پیش خدمت ہیں:
1۔ آیت اللہ جناتی نے نجف میں بڑے مراجع اور علماء کے ساتھ طویل علمی رفاقت اختیار کی۔ وہ بظاہر ایک روایتی شخصیت تھے اور فقہِ جواہری پر کامل یقین رکھتے تھے، مگر اپنے زمانے سے آگے تھے اور اسی فقہ سے ایک متحرک اور زندہ فقہ اخذ کرتے تھے۔ ان کے بقول، جب شہید مطہری نجف آئے تو ان کے ساتھ ایک علمی بحث ہوئی جس پر مطہری نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کبھی گمان نہ تھا کہ نجف میں آپ جیسی شخصیت موجود ہوگی۔ اسی طرح علی لاریجانی بھی اگرچہ ظاہری طور پر عالم دین نہ تھے، لیکن دینی آداب، روحانیت اور مرجعیت کے احترام کے ساتھ ساتھ روشن فکری، ذہانت اور جدت ان کی شخصیت میں نمایاں تھی۔
2۔ جو لوگ اپنے زمانے سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ ان دونوں کی معتدل اور عاقلانہ سوچ کو نہ سمجھ سکے اور لاعلمی کی بنا پر ان پر الزامات لگاتے، انہیں بدنام کرتے اور یہاں تک کہ گالم گلوچ تک کرتے۔ یہاں تک کہ حرمِ معصومہؑ میں ایک تقریر کے دوران شہید لاریجانی پر سجدہ گاہ اور جوتے پھینکے گئے اور مرحوم جناتی پر بھی کئی بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ دونوں کو جاہل اور تنگ نظر افراد کی اذیتوں کا سامنا رہا، لیکن انہوں نے ہمیشہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔
3۔ تواضع، سادگی، صداقت، آزادی فکر، خود مختاری، عقلانیت کے ساتھ ساتھ استقامت اور شجاعت، دونوں کی نمایاں صفات تھیں۔ آیت اللہ جناتی کی تصانیف میں علمی جرات اور آزاد اندیشی واضح ہے، جبکہ لاریجانی کی عقلانیت اور تدبر ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں رہا، جہاں انہوں نے منطقی اور مضبوط انداز میں اپنے مخالفین کا مقابلہ کیا۔
4۔ دونوں کا رہبرِ شہید انقلاب کے ساتھ قریبی اور مسلسل تعلق تھا اور رہبر کی طرف سے بھی ان پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ چنانچہ لاریجانی کی نااہلی کو انہوں نے کھلا ظلم قرار دیا اور اس کی تلافی کا مطالبہ کیا، جبکہ آیت اللہ جناتی کے خلاف شدت پسند حلقوں کی یلغار کے مقابلے میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ ان کی باتوں کا علمی انداز میں جواب دیا جائے۔
5۔ کل جب میں نے ان دونوں عظیم شخصیات کی تشییع میں عوام کا جوش، علماء اور نیک لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی تو ایک بار پھر “مداد العلماء” اور “دماء الشہداء” کی معجز نما تاثیر پر میرا یقین مزید مضبوط ہو گیا۔
ان نازک تاریخی حالات میں ہم جبهۂ مقاومت کے مجاہدین کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے، ان دونوں عزیز شخصیات کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور ان کی ارواحِ طیبہ کو سلام، درود اور صلوات پیش کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ